الفرقان                                                                     
آیات 63 تا 77
و عباد الرحمٰن الذین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُولئک ھم الوارثون۔
1۔ اللہ کے خاص بندے جو اس کے عبادت گزار ہیں جب بھی زمین پر چلتے ہیں تو فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب کوئی جاہل ملتا ہے تو اسے السلام علیکم کہتے ہیں۔
2۔ اور یہ مومنین اپنی ساری راتیں اللہ کے آگے سجدوں اور قیام میں گزارتے ہیں۔
3۔ اور جو یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمارے رب دوزخ کا عذاب ہم سے پرے رکھ کیونکہ یہ چمٹ جانے والا ہے۔ 4۔ نے شک وہ ٹھہرنے اور رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔
5۔ اور جو خرچ کرتے وقت نہ تو اصراف کرتے ہیں اور نہ ہی تنگی سے کام لیتے ہیں اور بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل طریقے سے خرچ کرتے ہیں۔
6۔ اور خدا کے سوا کسی اور کو معبود نہیں پکارتےاور کسی ایسے شخص کو قتل کرنا جس کو کہ اللہ نے منع کردیا ہو قتل نہیں کرتے۔ وہ زنا بھی نہیں کرتے اور اگر یہ کام کرے گا تو اپنے اوپر وبال لے کر آئے گا۔
7۔ اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب دیا جائے گا اور وہ ذلت و خواری کے ساتھ اسی میں رہے گا۔
8۔ سوائے ان لوگوں کے جوتوبہ کریں ایمان لائیں اور نیک کام کرے ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دیتا ہے۔ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
9۔ اور جو شخص توبہ کرت اور نیک عمل کرےوہ اصل میں سچا رجوع کرنے والا ہے۔
10۔ یہ لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتےاور جب کسی لغو بات پہ ان کا گزر ہوتا ہے تو شرافت سے گزر جاتے ہیں۔
11۔ اور جب ان کے سامنے ان کے رب کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو یہ اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔
12۔ اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو ہماری بیویوں اور بچوں کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دیے۔ اور ہمیں پیشراوں کا امام بنا دے۔
13۔ اس میں یہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت اچھی جگہ ہے۔
14۔ آپ کہہ دیۓ اگر تمہاری پکار نہ ہوتی تو بالکل خدا تمہاری ہرواہ نہ کرتا۔ تم تو جھٹلا چکے اب اس کی سزا تمہیں چمٹ جانے والی ہے۔ سوال۔ سورۃ میں کن دو جگہوں کا ذکر کیا گیا ہے؟
وعباد الرحمٰن کی چیدہ باتیں بیان کریں؟
مومنین کی چند خصوصیات بیان کریں؟
سورۃ حشر
ایت نمبر 18۔19۔20
1۔ اے لوگو جو اللہ پہ ایمان لے ائیں ہو تو اللہ سے ڈرو اور اس بات کا خیال رکھنا کہ تم اگلے جہان کے لیے کیا ذخیرہ اعمال بھیج رہے ہو۔ تو اس بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک کہ اللہ تمہارے سب اعمال سے با خبر ہے۔2۔اور ان لوگو کی طرح نہ ہو جانا کہ جو بے پروائی سے کام لیتے ہیں۔ یہی لوگ فاسقین ہیں۔ 3۔وہ اصحاب جو جنت میں ہیں وہ ان کی  طرح نہیں جو نار کا ایندھن ہیں۔ جنت میں رہنے والوں کا ٹھکانہ وہی جنت میں ہے۔
تشریح- ان ایات میں اللہ سے تقوٰی اختیار کرنے اور بہتر اعمال اپنانے کا کیہا گیا ہے۔ اس بات کو  بھی پہ  بھی زور ہے کہ اللہ ہمارے تمام اعمال سے بھی باخبر ہے۔ وہ لوگ جو اللہ کی بتائی ہوئی باتوں پر دھیان نہیں دیتے اور ان پہ عمل کرنا مذاق سمھجتے ہیں ان لوگوں کا ٹھکانہ جنت نہیں بلکہ جہنم ہے۔
سورۃ احزاب
النبی اولٰی بالمومنین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھتانا و اثما مبینا
1۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ والہ وسلم تمام اصحآبہ کرام پہ ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں۔ اور اپ کی تمام ازواج تمام امت کی بیویوں ہیں۔ یہ سب اصحابہ اپس میں ایک دوسرے سے رشتہ رکھتے ہیں۔ اور بعض تو نسبت میں بعضوں سے بہت اگے ہیں اور یہ بات قران میں لکھی جا چکی ہے۔ جن میں سے کچھ مومنین ہیں اور کچھ مہاجرین ہیں۔ اور اگر تم یہ چاہو کہ ان کے ساتھ دوستی کر لو تو یہ بہت بڑی نیکی اور حسن سلوک ہے۔ اور یہ بات لوح مخفوظ میں درج کر دی جاتی ہے۔
2۔ تحقیق ہے اس بات میں کہ تمہارے لیے رسول پاک کی حیات طیبہ اسوہ حسننہ ہے ایسے لوگ اللہ سے اور آخرت کے دن سے ڈرتے ہیں اور بہت زیادہ ذکر اللہ کرتے ہیں۔
3۔ اقر محمد تم مردوں کے باپ نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ کے رسول ہیں اور نبی آخری الزماں ہیں۔ اور اللہ کو ہر بات کا علم ہے۔
4۔ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی مکرم پر صلٰوۃ بھیجتے ہیں و اے ایمان والو تم بھی آپ پر سلام و صلٰوۃ بھیجا کرو۔
5۔ اے لوگو تم یہ جو مومنین مرد اور مومنین عورتوں کو جو اذیتیں دیتے ہو اور اس بات کے عوض جو کام کے انہوں نے کیا ہی نہیں اور تحقیق کہ جو ذمہ داری ان کی تھی ہی نہیں بہت بڑا گناہ ہے۔
سورۃ الصف
سبح اللہ ما فی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ القوم الفسقین
جو کچھ اسمانوں اور زمین میں ہے سب اس کی پاکی ایا کہ حالا ہو یا قولا ہے اور وہی عزیز یعنی زبردست ہے اور حکمت والا ہے اور تمام مخلوق اسی پاکی کو ان دو اسم اعظم میں بیان کرتے ہیں۔ اے لوگوں جو ایمان لے ائیں ہو وہ ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کہ وہ کرتے نہیں۔ اللہ کے نزدیک ایسی بات بڑی ناراضی کی ہے کہ جو بات کہو اور کرو نہیں۔ بے شک وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں صف در صف لڑتے ہیں وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہیں۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ تم مجھے اذیت کیوں دیتے ہو۔یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ میں تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ان کی طبیعتوں  میں جو ٹیڑھا پن ہے تو اللہ نے بھی ان کے دلوں میں ٹیڑھا پن بھر دیا ہے اور اللہ فاسقین کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
تشریح۔ ان ایات میں اللہ کی قوت کے بارے میں بیان کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک زبردست اور عزیز مطلق خدا ہے اس کا مقابلہ کرنے کا کسی میں بھی عزم استقلال نہیں۔ کائنات کی تمام تخلیق اسی ایک واحد کی پاکی بیان کرتی ہیں۔ چاہے تو وہ مخلوق اپنے حال میں یا اپنے قول کے ساتھ پاکی بیان کرتی ہیں۔ جب ساری مخلوق سوائے انسان کے اللہ کی پاکی کو سر عام کرتی ہے تو انسان ایسی بات کیوں کہتے ہیں جو کہ وہ عملی طور پہ نہیں کرتے۔ جو کام انسان عملی طور پہ نہ کرتا ہو اور صرف زبانی جمع خرچ کرے تو اس طرح کی باتوں کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ اسلام ایسا مذہب نہیں ہے جس میں خالی وعدے کیے جائیں اور کوئی بھی وعدہ پورا نہ کیا جائے۔ وعدہ پورا کرنے پہ بہت ترجیح ددی گئی ہے۔ کام کرنے کی ضمن ہی میں ان لوگوں کا ذکر خیر کیا گیا ہے جو عملی طور پر اللہ کی راہ میں ایک سیسہ پلائی ہوئی جماعت کی شکل میں لڑتے ہیں بلکہ اس میں کامیابی اور کامرانی بھی حاصل کرتے ہیں۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ وہ سب اس بات سے باز ائے کہ جس طرح وہ ان کو تنگ کر رہے ہیں۔ ان کے اس رویے کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں میں کجی پیدا کر دی ہے کیونکہ اللہ کے نزدیک ایسے لوگوں کو ہدایت یافتہ کہنا جائز نہیں اور نہ ہی اللہ فاسقین کو ہدایت دیتا ہے۔


No comments:

Post a Comment